قرأت کے مسائل

سوال نمبر 1: کیا کسی نماز میں قرأت کی کوئی خاص مقدارآئی ہے؟

جواب :چھوٹی آیت جس میں دو یا دو سے زیادہ کلمات ہوں، پڑھ لینے سے فرض ادا ہو جائے گا اور پوری سورئہ فاتحہ اور اس کے ساتھ ایک چھوٹی سورت یا تین چھوٹی آیتیں یا ایک دو آئیتں تین چھوٹی آیتوں کے برابر پڑھ لینے سے قرأت کی مقدار واجب ادا ہو جاتی ہے۔ نماز خواہ فرض ہو یا نفل اور قرأت کی اس سے زائد مقدار کسی نماز میںلازم نہیں، البتہ مسنون ہے۔
سوال نمبر 2: فرض نمازوں میں کتنی کتنی قرأت مسنون ہے؟
جواب :سفر میں اگر امن و قرار ہو تو سنت یہ ہے کہ فجر و ظہر میں سورئہ بروج یا اس کی مثل سورتیں پڑھے اور عصر و عشاء میں اس سے چھوٹی اور مغرب میں قصارمفصل کی چھوٹی سورتیں اور جلدی ہو تو ہر نماز میں جو چاہے پڑھے۔
اور حضر یعنی حالت اقامت میں جبکہ وقت تنگ نہ ہو تو سنت یہ ہے کہ فجر وظہر میں طوال مفصل پڑھے اور عصر و عشاء میں اوساط مفصل اور مغرب میں قضا مفصل اور ان سب صورتوںمیں امام و منفرد دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ 

سوال نمبر 3: طوال مفصل، اوساط مفصل اور قصار مفصل کسے کہتے ہیں؟
جواب :سورئہ حجرات (پارہ حمٰ ۲۶) سے آخر تک قرآن مجید کی سورتوں کو مفصل کہتے ہیں، اس کے یہ تین حصے ہیں، سورئہ حجرات سے سورئہ بروج تک زوال مفصل اور سورئہ بروج سے سورئہ لم یکن تک اوساطِ مفصل اور لم یکن سے آخر تک قصار مفصل۔
سوال نمبر 4: کسی ضرورت سے قرأت مسنونہ چھوڑ دیں تو کیا حکم ہے؟
جواب :اضطراری حال میں مثلاً وقت جاتے رہنے کا خوف ہو یا دشمن یا چور کا اندیشہ ہو تو قرأتِ مسنونہ ترک کر دینے میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ بقدر حال پڑھے خواہ سفر میں ہو یا حضر میں یہاں تک کہ اگر واجبات کی رعایت نہیں کر سکتا تو اس کی بھی اجازت ہے مثلاً فجر کا وقت اتنا ہے کہ صرف ایک ایک آیت پڑھ سکتا ہے تو یہی کرے مگر بلندی آفتاب کے بعد نماز کا اعادہ کر لے یا مثلاً سنت فجر میں جماعت جانے کا خوف ہو تو صر ف واجبات ادا کرے، ثناء و تعوذ کو ترک کرے اور رکوع و سجود میں ایک بار تسبیح پڑھے۔
سوال نمبر 5: قرأت مسنونہ پر زیادتی جائز ہے یا نہیں؟
جواب :اگر مقتدیوں پر شاق نہ ہو تو قرأت مسنونہ پرقدرے زیادتی کی جاسکتی ہے لیکن اگر ان پر گراںگزرے تو قرأت مسنونہ پر زیادت نہ کرے بلکہ حدیث شریف میں ہے کہ جب کوئی اوروں کو نماز پڑھائے تو تخفیف کرے کہ ان میں بیمار، کمزور اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور جب اپنی پڑھے تو جس قدر چاہے طول دے۔
سوال نمبر 6: قرأت ہر رکعت کے برابر ہونی چاہیے یا کم و بیش؟
جواب :فجر کی پہلی رکعت کو بہ نسبت دوسری کے دراز کرنا مسنون ہے اور اس کی مقدار رکھی گئی ہے کہ پہلی میں دو تہائی اور دوسری میں ایک تہائی اوربہتر یہ ہے کہ اور نمازوں میں پہلی رکعت کی قرأت دوسری سے قدرے زیادہ ہو، یہی حکم جمعہ و عیدین کا بھی ہے اور سنن و نوافل میں دونوں رکعتوں میں برابر کی سورتیں پڑھے۔
سوال نمبر 7: دوسری رکعت میں پہلی سے زیادہ قرأت کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب :دوسری رکعت کی قرأت پہلی سے طویل کرنا مکروہ ہے ۔ جب کہ سورتوں کی آیتیں برابر کی ہوں اور یہ زیادتی بقدر تین آیت ہو، اور اگر سورتوں کی آیتیں چھوٹی بڑی ہوں تو آیتوں کی تعداد کا اعتبار نہیں بلکہ حروف و کلمات تک کا اعتبار ہے۔ اگر کلمات و حروف میںبہت تفاوت ہے تو کراہت ہے اگرچہ آیتیں گنتی میں برابر ہوں ورنہ نہیں۔ مثلاً پہلی میں الم نشرح پڑھی اور دوسری میں لم یکنتو کراہت ہے، اگرچہ دونوں میں آٹھ آیتیں ہیں۔
سوال نمبر 8: نماز میں کسی سورت کو ہمیشہ کے لیے مقرر کر لینا کیسا ہے؟
جواب :سورتوں کا تعین کر لینا کہ اس نماز میں ہمیشہ وہی سورت پڑھا کرے مکروہ ہے مگر جو سورتیں احادیث میں وارد ہیں ان کو کبھی کبھی تبر کا پڑھ لینا مستحب ہے مگر ہمیشہ نہ پڑھے کہ کوئی واجب گمان کر ے۔
سوال نمبر 9: فجر کی سنتوں اور وتر میں قرأت مسنونہ کیا ہے؟
جواب :حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں میں پہلی رکعت میں اکثر قل یا ایہاالکٰفرون اور دوسری رکعت میں پڑھتے تھے۔ اور وترمیں پہلی رکعت میں سبح اسم رکب الاعلیٰاور کبھی انا انزلنادوسری قل یا ایہا الکٰفرون اور تیسر ی میں قل ھو اللہپڑھتے ، یونہی جمعہ وعیدن کی پہلی رکعت میں سبح اسماور دوسری میں ھل اتاکپڑھناسنت ہے اور یہ اس قاعدے سے متشنٰی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ (یعنی سوال نمبر ۱۱۷ میں)
سوال نمبر 10: ترتیب کے خلاف قرآن مجید پڑھنا کیسا ہے؟
جواب :خلاف ترتیب قرآن شریف پڑھنا کہ دوسری رکعت میں پہلی والی سے اوپر کی سورت پڑھے یہ مکروئہ تحریمی ہے مثلاً پہلی میں قل ایھا الکٰفرونپڑھی اور دوسری میں ا لم ترکیفہاں اگر بھول کر دوسری رکعت میں اوپر کی سورت شروع کر دی پھر یاد آیا تو جو شروع ہو چکا ہے اسی کو پورا کرے۔ اگرچہ ابھی ایک ہی حرف پڑھا ہو۔
سوال نمبر 11: نماز میں ایک ہی سور ت مکرر پڑھ لینا کیسا ہے؟
جواب :دونوں رکعتوں میںایک ہی سورت کی تکرار مکروئہ تنزیہی ہے جبکہ کوئی مجبوری نہ ہو اور مجبوری ہوتو بالکل کراہت نہیں مثلاً دوسری میں بلاقصد وہی پہلی سورت شروع کر دی یا دوسری سور ت یاد نہیں آتی یا پہلی رکعت میںپوری قل اعوذ برب الناسپڑھی تو اب دوسری میں بھی یہی پڑھے اور نوافل کی دونوں رکعتوں میں ایک ہی سورت کو مکرر پڑھنا یاایک رکعت میں اسی سورت کو بار بار پڑھنا بلا کر اہت جائز ہے۔
سوال نمبر 12: درمیان سے سورت چھوڑنے کا حکم کیا ہے؟
جواب :پہلی رکعت میںکوئی سورت پڑھی اور دوسری ایک چھوٹی سورت درمیان سے چھوڑ کر پڑھی تو مکروہ ہے اگر وہ درمیان کی سورت پہلی سورت سے بڑی ہے تو حرج نہیں جیسیوا لتین کے بعد انا انزلنا پڑھنے میں حرج نہیں جیسے ازا جآئکے بعد قل ھوا للہ پڑھنی چاہیے۔
سوال نمبر 13: تلاوت قرآن کریم کے فضائل (خوبیاں) کیا ہیں؟
جواب :قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے کے بہت سے فضائل ہیں۔ اجمالی طور پر اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس پر اسلام اور احکام اسلام کا مدار ہے۔ اس کی تلاوت کرنا، اس میں تدبر اور غور و فکر کرنا آدمی کو خدا تک پہنچاتا ہے۔ جس طرح یہ مقد س کتاب تمام علوم کی جامع ہے اسی طرح اس کا یاک ایک کلمہ اور ایک ایک حرف بے نہایت برکات کا سر چشمہ ہے۔
اس کے فضائل میں سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
۱۔ قرآن کریم کی تلاوت کرو وہ روزِ قیامت اپنے رفیقوں کی شفاعت کرے گا۔
۲۔ جس شخص نے قرآن کریم کا ایک حرف پڑھا اس کے لیے نیکی ہے دس نیکیوں کے برابر ۔
۳۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس شخص کو قرآن اور میرا ذکر ایسا مشغول کرے کہ وہ مجھ سے مانگنے اور سوال کرنے کی فرصت بھی نہ پائے میں اس کو مانگنے والوں سے زیادہ دیتا ہوں۔
۴۔ جس گھر میں قرآن پڑھا جاتا ہے وہ اہل آسمان کے لیے ایسی زینت ہوتا ہے جیسے ستارے زمین ولوں کے لیے۔
۵۔ اپنے مکانوں کو نماز اور قرآن کریم کی تلاوت سے منورکرو۔
۶۔ میر ی امت کی بہترین عبادت قرآن کریم کی تلاوت ہے۔
۷۔ تم میں بہتر وہ شخص ہے جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا۔

سوال نمبر 14: تلاوت میں خاص کر کس بات کا دھیان رکھنا چاہیے؟
جواب :قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنا، اس کے معنی پر نظر رکھنا مقصودِ اعظم ہے۔ اس سے قلب میںنورانیت حاصل ہوتی ہے اور معنی پر نظر رکھنے سے مراد یہ ہے کہ جو پڑھتا ہے اس کے معنی سمجھے اور امر و نہی پر غور کرے اور دل میں اس کے ماننے اور اطاعت کرنیاعتماد جمائے اور گزرے ہوئے زمانہ میں جو تقصیر ہوئی اس سے استغفار کرے اور جب آیت رحمت آئے تو خوش ہو اور اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کرے اور جب آیت عذاب آئے تو ڈرے اور اس سے پناہ مانگے۔ دل حاضر کرے اور خشوع کے ساتھ پڑھے یہاں تک کہ رقت آئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوں۔
قرات کے درمیان ہنسنا، بے فائدہ عبث حرکات کرنا اور لہو کی طرف نظر کرناا ور قرآن کریم کی تلاوت کو کسی سے بات کرنے کے لیے قطع کرنا مکروہ ہے اور قرآن کریم کو ذریعہ معاش بنانا ممنوع ہے۔ 

سوال نمبر 15: چلتے پھرتے اور لیٹ کی تلاوت جائز ہے یا نہیں؟
جواب :قرآن کریم زبانی لیٹ کر پڑھنے میںحرج نہیں جب کہ پاؤں سمٹے ہوں اور منہ کھلا ہو، یوں چلنے اور کام کرنے کی حالت میں بھی تلاوت جائز ہے جب کہ دل نہ بٹے، ورنہ مکروہ ہے۔

سادہ طریقے سے خریدوفروخت کی صورتیں

مختلف کمپنیاں اور ان کا طریقہ کار:
آج کل فاریکس اور اس کے نام سے کاروبار کرنے والی نئی کمپنیاں وجود میں آئی ہیں۔ اس کاروبار کے طریقہ کار کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کاروبار کی وہ تمام تر صورتیں جو عام طور سے اختیار کی جاتی ہیں، نا جائز ہیں۔

کاروبار کا طریقہ کار یوں ہے کہ ایک شخص دس ہزار ڈالر کمپنی میں جمع کروا کے اس اسکیم کا رکن بن سکتا ہے۔ کمپنی والے اس کی رہنمائی کرتے ہیں کہ وہ کب اور کون سی جنس خرید لے کہ جس کو بعد میں فروخت کر کے نفع کی امید کی جا سکتی ہے۔ ہر کرنسی یا شے کی خرید کی کم سے کم مقدار مقرر کی ہوئی ہے، جس کو لاٹ یا کھیپ کہا جاتا ہے۔ مثلاً:62 ہزار 5 سو برطانوی پاؤنڈ کی یا ایک لاکھ 25 ہزار جرمن مارک کی ایک لاٹ ہوتی ہے۔ اشیا و اجناس میں کپاس چینی اور گندم اور زر نقد میں سونا اور چاندی ہے۔ سونے کی ایک لاٹ یا کھیپ ایک سو اونس او ر چاندی کی ایک لاٹ 5 ہزار اونس پر مشتمل ہوتی ہے۔ جب آپ کسی کرنسی یا مذکورہ اشیا میں سے کسی ایک کی کوئی لاٹ خریدنا چاہیں اور کمپنی کو اپنا آرڈر دیں تو کمپنی ان جمع شدہ 10 ہزار ڈالر میں سے 2 ہزار ڈالر بطور بیعانہ یا تحفظ کے رکھ لیتی ہے اور آرڈر مرکزی دفتر کو پہنچا دیتی ہے، جو آرڈر کی تکمیل کر کے لاٹ کی خرید کی اطلاع دیتا ہے۔

یہ خرید بھی دو طرح کی ہوتی ہے: ایک نقد جس کو (کیش ٹریڈنگ) یا (سپورٹ) کہا جاتا ہے اور دوسری بیع سلم قسم کی، جس کو (فیوچر ٹریڈنگ)کہا جاتا ہے۔ نقد میں تو مبیع یعنی خریدی ہوئی شے پر فوری قبضہ مل سکتا ہے جب کہ (فیوچر… یعنی بیع سلم میں) یہ طے پاتا ہے کہ بائع ایک مقررہ مدت کے بعد طے شدہ مہینے میں فلاں تاریخ کو وہ لاٹ مہیا کرے گا، قیمت بھی طے کر لی جاتی ہے۔ اس کاروبار میں کمپنی کے کردار کی وضاحت ایک کمپنی (ایمپائر ریسورسز) نے کی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ کمپنی اپنے موکلین اور دنیا کے مختلف تجارتی مراکز میں موجود دلالوں کے درمیان کمیشن ایجنٹ کے طور پر کام کرتی ہے۔ ہر سودا جو کمپنی کراتی ہے، اس پر وہ 50 یا 60 ڈالر کمیشن لیتی ہے، خواہ سودے میں موکل کو نفع ہو یا نقصان ہو، پھر جو لاٹ خریدی، اگر خرید اری کے دن ہی فروخت کر دی گئی تو کمپنی صرف اپنی کمیشن وصول کرے گی اور اگر فروخت میں کچھ دن لگ گئے تو کمپنی کمیشن کے علاوہ 5 یا 6 ڈالر یومیہ کے حساب سے سود وصول کرے گی، بعض صورتوں میں موکل کو سود ملتا ہے۔ مثلاً:

(1)سپورٹ، کیش ٹریڈنگ 
کمپنی کی اپنی وضاحت کے مطابق، وہ اپنے موکلین اور دلالوں کے درمیان رابطہ کرتی ہے اور کمیشن پر سودے کرواتی ہے۔ اس صورت میں سودا موکل اورتجارتی مرکز میں موجود دلال کے مابین ہوتا ہے لیکن چونکہ موکل پوری رقم کی ادائیگی تو کرتا نہیں، لہٰذا سونے اور چاندی کی خریداری کی صورت میں سودا دو وجہ سے ناجائز ہوا:

یہ دین کی عوض دین کی بیع ہے، بائع اور خریدار دونوں کی جانب سے ادھار ہے، کیونکہ نہ تو بائع نے خریدار کو خریدی ہوئی چیز پر قبضہ دیا اور نہ ہی خریدار نے قیمت کی ادئیگی کی اور دین کی دین کے عوض بیع ناجائز ہے۔

2 خرید پر جتنے دن گزریں گے خریدار یعنی موکل کو یومیہ کے حساب سے سود ادا کرنا پڑے گا اور اس کے برعکس اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ کمپنی خود لاٹ خرید لیتی ہو یا اس کے پاس پہلے سے موجود ہو تو پھر اس میں 2 صورتیں ہیں:
٭کمپنی اپنے لیے خریدتی ہو اور پھر موکل کے ہاتھ فروخت کرتی ہو تو اس میں مذکورہ بالا دونوں خرابیاں بعینہِ تو ہیں ہی، تیسری خرابی یہ ہے کہ کمیشن بلا وجہ وصول کر رہی ہے۔

٭کمپنی موکل کے لیے خریدتی ہو اور اپنے سے مکمل ادائیگی کر کے مبیع پر قبضہ کر لیتی ہو، اس صورت میں اگرچہ دین کی دین کے عوض بیع تو نہیں بنتی، لیکن سود سے بچاؤ تو اس میں بھی نہیں ہے۔ (2)فیوچر ٹریڈنگ

یہ اگر چہ بیع سلم کی صورت ہے لیکن اس میں بیع سلم کی بعض شرائط مفقود ہیں:
پہلی یہ کہ سودا طے پانے کی مجلس میں راس المال (رقم) کی ادئیگی نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں بیع سلم میں یہ ضروری ہے کہ جب تک مسلم فیہ (خریدی ہوئی چیز) پر قبضہ نہ ہو جائے۔ اس میں کسی قسم کا تصرف نہ کیا جائے، لیکن زیر بحث کاروبار میں اصل یہی ہے کہ مسلم فیہ پر قبضہ کیے بغیر مہیا کیے جانے کی تاریخ سے پیشتر ہی اس کو آگے فروخت کر دیا جاتا ہے۔

یہ خرابیاں اس صورت میں ہیں جب خرید کردہ چیز اجناس و اشیا ہوں تاہم اگر خرید کردہ چیز سونا یا چاندی ہو تو اس میں بیع سلم جائز ہی نہیں کیونکہ سلم، ثمن (کرنسی) میں نہیں ہوتی۔

یہ ساری تفصیل تو اس صورت میں ہے جب مذکورہ کمپنیاں واقعی کچھ کاروبار کی صورت اختیار کرتی ہوں، ورنہ تو ہمارا غالب گمان یہ ہے کہ سب کچھ فرضی کارروائیاں ہوتی ہیں۔

دوسرا طریقہ ایک اور مروجہ صورت کاروبار کی جو آج کل رائج ہے، یہ ہے کہ مثلاً ایک مہینے کے ادھار کی ایک مخصوص مقدار 10 تولے سونے کا سودا کر لیا جاتا ہے، خریدار سونے پر قبضہ نہیں کرتا۔ جب ادائیگی کی تاریخ آتی ہے تو سونے کے اس دن کے نرخ کو دیکھ لیا جاتا ہے، خرید کے دن اور ادائیگی کے سونے کے نرخوں میں جو فرق ہوتا ہے اس کی ادائیگی کر دی جاتی ہے، مثلاً: خرید کے دن سونے کا نرخ 5 ہزار روپے فی تولہ تھا۔ ادائیگی کے دن 5 ہزار ایک سو روپے تولہ ہو گیا تو خریدار بائع کو ایک ہزار روپے دے گا۔ نہ تو مشتری سونے پر قبضہ کرتا ہے اور نہ بائع قیمت پر قبضہ کرتا ہے۔ بس نرخ میں کمی بیشی سے جو فرق آتا ہے اس کا لین دین کر لیتے ہیں، کاروبار کی یہ شکل ناجائز اور حرام ہے۔

بینکوں کے ذریعے سونے چاندی اور قیمتی دھاتوں کا لین دین

چیک کے ذریعے :
موجودہ کرنسی چونکہ نہ سونے چاندی کی بنی ہے اور نہ اس کی پشت پر سونا چاندی موجود ہیں اور چیک نوٹ کے مقابلے ہی کے جاری ہوتے ہیں، اس لیے چیک سے سونے چاندی کی خرید و فروخت جائز ہے، کیونکہ یہ بیع صرف نہیں لہذا اس میں تقابض شرط نہیں۔
( مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامی: ع 3ج3 ص1696)

کریڈٹ کارڈ کے ذریعے :
کریڈٹ کارڈ کے ذریعے سونا چاندی خریدنا جائز ہے، کیونکہ کارڈ والے کی طرف سے دستخط شدہ پرچی قبضے کے قائم مقام ہوتی ہے، جیسا کہ چیک، لیکن تاخیر یا عدم تاجیل کی شرط لگانا جائز نہیں۔(موسوعۃ فتاوی المعاملات المالیۃ: ج7 ص504)

بینک کا سونا خریدنا اور آگے کسی کو بیچنا:
بینک کسی سے سونا خرید لیتا ہے، سونے کی قیمت بائع (سیلر) کے اکاؤنٹ میں جمع کر دیتا ہے، اس کے بعد بینک اس سونے کو کسی اور کو فروخت کرتا ہے تو اس طرح کرنا بینک کے لیے جائز ہے کیونکہ سونا بینک کی ملکیت میں آگیا اور بدلین پر قبضہ ہوگیا، لہذا اب آگے کسی اور کو فروخت کرنا بینک کے لیے جائز ہو گا۔(موسوعۃ فتاوی المعاملات المالیۃ: ج 7ص509)

بینک کا کسی کے پاس فروخت کرنے کی خاطر سونا رکھوانا:
بینک اگر سنار کے پاس فروخت کرنے کی خاطر سونا رکھوائے اور اس سے اطمینان کے لیے کچھ رقم لے، تو یہ بینک کے لیے جائز ہے کیونکہ بینک نے سنار کو وکیل بالشراء بنایا، اس لیے وہ بینک سے اس پر وکالہ فیس بھی لیتا ہے اور یہ اس کے لیے جائز ہے۔

رہا سنار سے اطمینان کی خاطر کچھ رقم وغیرہ لینا تو یہ بھی جائز ہے، البتہ اگر بغیر کسی تعدی کے سنار سے سونا ضائع ہو گیا تو سنار ضامن نہیں ہو گا۔ فروخت کرنے کی صورت میں سنار رکھوائی گئی رقم کا مقاصہ (بینک کے ساتھ رقم برابر کرنا) بھی کر سکتا ہے۔(موسوعۃ فتاوی المعاملات المالیۃ:ج7 ص508 )

سفید سونے(بلاتین)کا حکم:
معدن بلاتین جس کو سفید سونا بھی کہتے ہیں، اس کی مؤجلاً (ادھار) خرید و فروخت جائز ہے کیونکہ یہ سونے کے حکم میں نہیں بلکہ دوسرے معادن) کے حکم میں ہے، بینک اگر اس کی خرید و فروخت کرنا چاہے تو سلم کے طریقے سے خرید و فروخت کرے گا۔(موسوعۃ فتاوی المعاملات المالیۃ: ج 7ص511)
حضور اقدس ﷺ کاارشاد ہے اللہ جل جلالہ‘ نے اس شہر مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے۔
فائدہ : ابن حجر مکی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ مدینہ طیبہ کے تقریباً ایک ہزار نام ہیں جن میں امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے مناسک میں مشہور ہونے کی وجہ سے پانچ نام ذکر کئے ہیں۔ مدینہ، طیبہ، طابہ، دار، یثرب ، ان میں سے یثرب زمانہ جاہلیت کا نام ہے۔حضور ﷺنے اس کو پسند نہیں فرمایا ۔یثرب کے معنی ملامت اور حزن کے ہیں اور حضور ﷺ کی عادت شریفہ برا نام بدل کر بہتر نام رکھنے کی تھی۔
حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھے ایک ایسی بستی میں رہنے کا حکم کیا گیا جو ساری بستیوں کا کھا لے لوگ اس بستی کو یثرب کہتے ہیں اس کا نام مدینہ ہے وہ برے آدمیوں کو اس طرح دور کر دیتی ہے جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔
حضور ﷺکا ارشاد ہے کہ مدینہ منورہ کی دونوں جانب جو کنکریلی زمین ہے اس کے درمیانی حصہ کو میں حرم قرار دیتا ہوں اس لحاظ سے کہ اس کے خاردار درخت کاٹے جائیں یا اس میں شکار کیا جائے اور حضور ﷺنے یہ ارشاد بھی فرمایا کہ مدینہ مؤمنین کے قیام کے لئے بہترین جگہ ہے اگر وہ اس کی خوبیوں کو جانیں تو یہاں کا قیام نہ چھوڑیں اور جو شخص یہاں کے قیام کو اس سے بددل کو کر چھوڑ ے گا اللہ جل شانہ‘ اس کا نعم البدل یہاں بھیج دے گا ور جو شخص مدینہ طیبہ کے قیام کی مشکلات کو برداشت کر کے یہاں قیام کرے گا میں قیامت کے دن اس کا سفارشی یا گواہ بنوں گا۔
حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ بیشک ایمان مدینہ کی طرف ایسا کھنچ کر آتا ہے جیسا کہ سانپ اپنے سوراخ کی طرف آجاتا ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کی دعا نقل کرتے ہیں اے اللہ تعالیٰ جتنی برکتیں آپ نے مکہ مکرمہ میں رکھی ہیں ان سے دگنی برکتیں مدینہ منورہ میں عطا فرما۔
حضرت سعد رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو کوئی بھی مدینہ منورہ کے رہنے والوں کے ساتھ مکر کرے گا وہ ایسا گھل جائے گا جیسا پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔
حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص میری مسجد میں چالیس نمازیں ایسی طرح پڑھے کہ ایک نماز بھی اس کی مسجد سے فوت نہ ہو تو اس کے لئے آگ سے برأۃ لکھی جاتی ہے عذاب سے برأۃ لکھی جاتی ہے اور وہ شخص نفاق سے بری ہے۔
فضائل زیارت روضہ مبارک
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص حج کرے پھر میری قبر کی زیارت کرے اس نے گویا زندگی میں میری زیارت کی اور ایک حدیث میں ہے کہ جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی اور امام احمد رحمتہ اللہ علیہ نے حضور ﷺ کی یہ حدیث نقل کی کہ جو شخص میری قبر کے پاس مجھ پر سلام کرے تو میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
ترجمہ : ابن عمررضی اللہ عنہ حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت ضروری ہوگی ۔
ترجمہ: حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو میری زیارت کو آئے اور اس کے سوا کوئی اور نیت اس کی نہ ہو تو مجھ پر حق ہو گیا کہ اس کی سفارش کروں۔
ترجمہ: حضور اکرم ﷺ سے نقل کیا گیا کہ جو شخص ارادہ کر کے میری زیارت کرے وہ قیامت میں میرے پڑوس میں ہوگا اور جو شخص مدینہ میں قیام کرے اور وہاں کی تنگی اور تکلیف پر صبرکرے میں اس کے لیے قیامت میں گواہ اور سفارشی ہوں گا اور جو مکہ مکرمہ یا حرم مدینہ میں مر جائے گا وہ قیامت میں امن والوں میں اٹھے گا۔
فائدہ : متعدد روایات میں یہ مضمون آیا ہے کہ جو شخص ارادہ کر کے میری زیارت کرے وہ قیامت میں میرا پڑوسی ہے ارادہ کر کے کا مطلب یہ ہے کہ محض اسی ارادہ سے آیاہو یہ نہ ہو کہ سفر تو کسی دنیاوی غرض سے تھا راستہ چلتے زیارت بھی کر لی ۔
ترجمہ: حضور اکرم ﷺ کا ارشاد نقل کیا گیا جس شخص نے حج کیا اور میری زیارت نہ کی اس نے مجھ پر ظلم کیا ۔
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور اقدس ﷺ ہجرت کر کے مکہ سے تشریف لے گئے تو وہاں کی ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا اور جب مدینہ پہنچے تو وہاں کی ہر چیز روشن ہوگئی حضور ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ میں میرا گھر ہے اور اسی میں میری قبر ہوگی اور ہر مسلمان پر حق ہے کہ اس کی زیارت کر لے۔
ترجمہ: حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص مدینہ میں آکر میری زیارت ثواب کی نیت سے کرے(یعنی کوئی اور غرض نہ ہو) وہ میرے پڑوس میں ہو گا اور میں قیامت کے دن اس کا سفارشی ہوں گا۔
ترجمہ: حضور اکرم ﷺ کا ارشاد نقل کیا گیا کہ جو شخص حج کے لیے مکہ جائے پھر میرا قصد کر کے میری مسجد میں آئے اس کے لیے دو حج مقبول لکھے جاتے ہیں ۔
فائدہ : یعنی اس کے حج کا ثواب دوگنا ہو جاتا ہے ۔
ترجمہ: حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص بھی میری قبر کے پاس آکر مجھ پر سلام پڑھے تو اللہ جل شانہٗ میری روح مجھ تک پہنچا دیتے ہیں ۔میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
ترجمہ: یہ نقل کیا گیا کہ جو شخص حضور اقدس ﷺ کی قبر مبارک کے پاس کھڑے ہو کر یہ آیت پڑھے (اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓءِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ط یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْاتَسْلَیْمًا) اس کے بعد ستر (
۷۰) مرتبہ (صلی اللہ علیک یا محمد )کہے تو ایک فرشتہ کہتا ہے کہ اے شخص اللہ جل شانہٗ تجھ پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کی حاجت پوری کر دی جاتی ہے
ترجمہ: حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص میری قبر کے پاس کھڑا ہو کر مجھ پر درود پڑھتا ہے میں اس کو خود سنتا ہوں
اور جو کسی اور جگہ دور پڑھتا ہے تو اس کی دنیا اور آخرت کی ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں اور میں قیامت کے دن اس کاگواہ اور اس کا سفارشی بنوں گا۔
ترجمہ: محمد بن عبیدا للہ بن عمر العتبی کہتے ہیں کہ میں مدینہ حاضر ہوا تو قبر اطہر پر زیارت کے لیے حاضر ہوا اور حاضری کے بعد وہیں ایک جانب بیٹھ گیا اتنے میں ایک شخص اونٹ پر سوار بدوانہ صورت حاضر ہوئے اور آکر عرض کیا یا خیر الرسل (اے رسولوں کی بہترین ذات)اللہ جل شانہٗ نے آپ پر قرآن شریف میں نازل فرمایا ۔
وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْظَّلَمُوْ اَنْفُسَھُمْ جَآءُ وْکَ فَاسْتَغْفِرُاللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَلَھُمُ الرَّسُوْلُ۔ (نساء ع
۹)
ترجمہ: اور اگر یہ لوگ جب انھوں نے اپنے نفس پر ظلم کر لیا تھا آپ کے پاس آجاتے اور آکر اللہ تعالی شانہٗ سے اپنے گناہوں کی معافی مانتے اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کے لیے معافی مانگتے تو ضرور اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا پاتے
اے اللہ کے رسول میں آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا ہوں اور اللہ جل شانہٗ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتا ہوں اور میں آپ کی شفاعت کا طالب ہوں اس کے بعد وہ بدو رونے لگے اور شعر پڑھے ۔
یاخیر من دفنت بالقاع اعظمہ فطاب مین طیبھن القاع والاکم
نفسی الفداء لقبرانت ساکنہ فیہ لغفاف و فیہ الجودو الکرم
ترجمہ: اے بہترین ذات ان سب لوگوں میں جن کی ہڈیا ں ہموار زمین میں دفن کی گئیں کہ ان کی وجہ سے زمیں اور ٹیلوں میں بھی عمدگی پھیل گئی میری جان قربان اس قبر پر، جس میں آپ ﷺ مقیم ہیں کہ اس میں عفت ہے اس میں جود ہے اس میں کرم ہے ۔
اس کے بعد انھوں نے استغفار کی اور چلے گئے عتبی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میری ذرا آنکھ لگ گئی تو میں نے نبی کریم ﷺ کی خواب میں زیارت کی حضور ﷺ نے فرمایا جاؤ اس بدو سے کہہ دو کہ میری سفارش سے اللہ جل جلالہ‘ نے اس کی مغفرت فرما دی۔اکثر حضرات نے یہی دو شعر نقل کئے مگر امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی مناسک میں اس کے بعد دو شعر اور نقل کئے ہیں ۔
انت الشفیع الذی ترجی شفاعتہٗ علی الصراط اذا مازلت القدم
وصاحباک لا انسباھما ابداً منی السلام علیکم ما جری القلم
ترجمہ: آپ ایسے سفارشی ہیں جن کی سفارش کے ہم امیدوار ہیں جس وقت کہ پل صراط پر لوگوں کے قدم پھسل رہے ہوں گے اور آپ کے دو ساتھیوں کو تو میں کبھی نہیں بھول سکتا میری طرف سے تم سب پر سلام ہوتا رہے جب تک کہ دنیا میں لکھنے کے لیے قلم چلتا رہے یعنی قیامت تک۔
مدینہ طیبہ کی حاضری
نیت سفرِ مدینہ : جب مدینہ منورہ کا سفر شروع کریں تو اس طرح نیت کریں:
اے اللہ میں سرکار دو عالم ﷺ کے مزار مبارک کی زیارت کے لئے مدینہ منورہ کا سفر کرتا ہوں، اے اللہ اسے قبول فرما لیجئے۔
اہتمام سنت : سفرِ مدینہ میں سنتوں پر عمل کرنے کا خاص خیال رکھیں۔
درود شریف : اس سفر میں درود شریف بکثرت پڑھیں۔ مدینہ طیّبہ کی آبادی نظر آنے پر شوقِ دید زیادہ کریں اور درود و سلام خوب پڑھتے ہوئے عاجزی سے داخل ہوں۔ قیام گاہ پر سامان رکھ کر غسل کریں ورنہ وضو کریں، اچھا لباس پہنیں،خوشبو لگائیں اور ادب و احترام سے درود شریف پڑھتے ہوئے مسجدنبوی کی طرف چلیں۔کسی بھی دروازہ سے ادب سے دایاں قدم رکھتے ہوئے داخل ہوں اور پڑھیں:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَّ صَحْبِہٖ وَسَلِّمْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔
اور اعتکاف کی نیت کرلیں تو اچھا ہے۔ اگر مکروہ وقت نہ ہو تو دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کریں اورپھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کریں ،دعا کریں اور توبہ کریں۔
اب انتہائی خشوع و خضوع ،ادب احترام کے ساتھ روضہ اقدس کی طرف چلیں اور جالیوں کے سامنے پہلے سوراخ کے آگے کھڑے ہو جائیں اور نظریں جھکا لیں اوردرمیانی آواز سے اس طرح سلام عرض کریں:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَا تُہ‘
پھر اس طرح کہیں :
اََلصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہُ
اََلصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہُ
اََلصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہُ
دوسروں کا سلام : اس کے بعد جس عزیز یا دوست کا سلام کہنا ہو اس طرح عرض کریں:
اََلصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہُ مِنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ
فلان بن فلان کی جگہ اس عزیز کا نام مع ولدیت ادا کریں۔
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر سلام : اس کے بعد دائیں طرف جالیوں میں دوسرے سوراخ کے سامنے کھڑے ہو کر اس طرح سلام عرض کریں۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَنَا خَلِیْفَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہُ جَزَاکَ اللّٰہُ عَنْ اُ مَّۃِ مُحَمَّدٍ خَیْرًا
عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر سلام : اس کے بعد دائیں طرف جالیوں میں تیسرے سوراخ کے سامنے کھڑے ہو کر اس
طرح سلام عرض کریں۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَنَا اَمِیْرَ الْمُؤمِنِیْنَ عُمَرَ الْفَارُوْقِ جَزَاکَ اللّٰہُ عَنْ اُ مَّۃِ مُحَمَّدٍ خَیْرًا
اس کے بعد مسجد نبوی میں ایسی جگہ چلے جائیں کہ قبلہ رو ہونے میں روضہ اقدس کی پیٹھ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ سے خوب رو رو کر دعا کریں، سلام عرض کرنے کا یہی طریقہ ہے۔
چالیس نمازیں : مرد حضرات مسجد نبوی میں چالیس نمازیں ادا کریں۔ لیکن یہ چالیس نمازوں کی پابندی ضروری نہیں ہے،مستحب ہے۔
مدینہ سے واپسی : جب مدینہ منورہ سے واپسی ہو تو طریقہ بالا کے مطابق روضہ اقدس پر حاضر ہو کر سلام عرض کریں، اس جدائی پر آنسو بہائیں اور دعا کریں اور دوبارہ حاضری کی حسرت کے ساتھ واپس ہوں۔
متبرک مقامات
مسجد قبا : ہفتے کے دن ورنہ جب موقع ملے مسجد قبا میں دو رکعت ادا کرلیا کریں، بشرطیکہ مکروہ وقت نہ ہو۔
جنت البقیع : کبھی کبھی جنت البقیع جایا کریں، ایصالِ ثواب،دعاِ مغفرت اوران کے وسیلہ سے اپنے لئے دعا مانگ لیا کریں۔
جبلِ اُحد اور شہدا اُحد دونوں کی مستقل زیارت کی نیت کریں، اس لئے کہ جبل اُحد کے فضائل بھی احادیث میں بہت آئے ہیں ۔ صبح سویرے نماز کے بعدروانہ ہو جائے تا کہ ظہر تک واپس ہو سکے اور وہاں جا کر سب سے اول سید الشہدا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے مزار پر حاضر ہو ۔حضور اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ میرے سب چچاؤں میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ افضل ہیں دوسر ی حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن شہدا کے سردار حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ہوں گے۔وہاں جا کر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک پر نہایت خشوع سے ان کی عظمت وا حترام کی رعایت کرتے ہوئے کھڑے ہوں اس کے بعد پھر دوسرے مزارات پر۔
مدینہ منورہ کے متبرک مقامات کی زیارت کرے جو تقریباً تیس مواضع ہیں اہل مدینہ ان کو جانتے ہیں اور اسی طرح ان سات کنوؤں کا پانی پئے جن سے حضور اقدس ﷺ کا وضو کرنا یا غسل کرنا وارد ہوا ہے۔ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ بِیراریس کے پاس جا کے جو مسجد قبا کے قریب ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کنویں میں حضور ﷺ نے اپنا لعاب مبارک ڈالا ہے اس سے وضو کرے اور اس کا پانی پئے اور مسجد فتح کے پاس آئے جو خندق کے قریب ہے اور ایسے ہی بقیہ مساجد اور مقامات جن کی تعداد تقریباً تیس ہے اہل مدینہ کے یہاں یہ مواقع معروف ہیں ایسے ہی ساتوں کنوؤں کا پانی شفا اور برکت کی نیت سے پئے ۔صاحب اتحاف کہتے ہیں کہ یہ سات کنوؤں بِیر اریس، بِیرحاء ، بِیر رومہ ، بِیرعرس، بِیربضاعہ ،بِیربصہ ہیں اور ساتوں میں اختلاف ہے کہ بِیرسقیا، بِیرعہن، بِیرجمل میں سے کون سا ہے۔
ترتیب' مفتی عامر عباسی۔
ڈائریکٹر، تدریس الاسلام انسٹیٹوٹ اسلام آباد
دارالافتاء جامع مسجد وحدت


مناسک حج : 
تلبیہ : لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔
ترجمہ۔ میں حاضر ہو ں اے اللہ میں حاضر ہوں۔میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ۔ میں حاضرہوں بیشک ساری تعریفیں اور سب نعمتیں اور بادشاہت تیری ہی ہے ۔تیرا کوئی شریک نہیں۔
فرائض حج :
۱) احرام نیت کر کے۔ ۲) وقوف عرفات(۹ تاریخ کو زوال تا غروب کسی بھی وقت)۔ ۳) طوافِ زیارت(۱۰ ذی الحجہ تا ۱۲ ذی الحجہ کے غروب تک)
واجبات حج :
۱) رمی جمار (3 شیطانوں کو مارنا)۔ ۲) قربانی کرنا(دم شکر) ۳) حلق یاقصر کرنا۔ ۴) ان تینوں میں ترتیب۔ ۵)وقوف مزدلفہ۔ ۶)حج کی سعی۔ ۷)آخری طوافِ وداع۔

حج کی تین قسمیں :
۱) صرف حج کی نیت کرے اور اسی کا احرام باندھے۔عمرہ کو حج کے ساتھ جمع نہ کرے۔اس قسم کے حج کا نام افراد ہے اور ایسا حج کرنے والے کو مفرد کہا جاتا ہے۔ ۲)حج کے ساتھ عمرہ بھی کرے اور حج بھی۔
دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھے، جس کانام قران ہے اور ایسا کرنے والے کو قارن کہا جاتا ہے۔
۳)حج کے ساتھ عمرہ کو اس طرح جمع کرے کہ میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھے،اس احرام میں حج کو شریک نہ کرے۔پھر مکہ معظمہ پہنچ کر شوال یا ذی القعدہ یا ذی الحجہ کی کسی تاریخ میں سے حج سے پہلے افعال عمرہ سے فارغ ہو کرحلق یا قصر کے بعد احرام ختم کرے پھر آٹھویں ذی الحجہ کو مکہ معظمہ سے حج کا احرام باندھے اس کا نام حج تمتع ہے۔
حج کرنے والے کو اختیار ہے کہ ان تین قسموں میں سے جو چاہے اختیار کرلے، مگر قران افضل ہے پھر تمتع، پھر افراد
حج افراد کے احرام کی نیت : اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْحَجَّ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ۔
اے اللہ ! میں حج کی نیت کرتا ہوں۔پس اس کو میرے لئے آسان فرما دے اور قبول فرما۔
حج قران کے احرام کی نیت : اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ فَیَسِّرْہُمَا لِیْ وَتَقَبَّلْھُمَا مِنِّیْ ۔
اے اللہ ! میں حج وعمرہ دونوں کی نیت کرتا ہوں۔یہ دونوں میرے لئے آسان فرما دے اور قبول فرما۔
تمتع کی صورت میں احرام اول کے وقت کی نیت : اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ فَیَسِّرْہَا لِیْ وَتَقَبَّلْہَا مِنِّیْ ۔
اے اللہ ! میں عمرہ کی نیت کرتا ہوں۔پس اس کو میرے لئے آسان فرما دے اور قبول فرما۔
حج قران اور حج تمتع میں عمرہ بھی شامل ہے، عمرہ کا طریقہ وہی ہے جو پہلے گزر چکا۔جبکہ حج افرا د میں عمرہ شامل نہیں ہے۔
عمرہ سے فارغ ہو کر : حج تمتع کی صورت میں عمرہ سے فارغ ہو کر احرام کی پابندیا ں ختم ہو گئیں۔ اب عام اہل مکہ کی طرح مکہ شریف میں مقیم رہے اور ایام حج جو آٹھویں ذی الحجہ سے شروع ہوں گے ان کا انتظار کرے ۔اس دوران میں مسجد حرام میں حاضری اور نفلی طواف بکثرت کرنے کو سعادت سمجھے۔
اگر حج مفرد (جس میں عمرہ شامل نہیں) یا قران ہے۔تو ان دونوں کا احرام ابھی باقی ہے ان دونوں پر لازم ہے کہ احرام کی پابندیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ میں قیام کریں۔مسجد حرام کی حاضری اور بیت اللہ کے طواف کو غنیمت سمجھ کر زیادہ سے زیادہ وقت اس میں لگائیں اور ایام حج جو آٹھویں ذی الحجہ سے شروع ہوں گے ان کا انتظار کرے ۔
دوبارہ احرام صرف حج تمتع والے باندھیں گے، جبکہ حج افراد اور قران والے نہیں۔
حج کا طریقہ :
۸ذی ا لحجہ حج کاپہلا دن
حج کی تیاری :
۸ ذی الحجہ کی رات کو منٰی جانے کی تیاری مکمل کریں۔
ا حرام کی تیاری : سرکے با ل سنو ار یں،خط بنوائیں،مو نچھیں کتریں،نا خن کا ٹیں،زیرنا ف اور بغل کے بال صاف کریں۔
غسل : احرام کی نیت سے غسل کر یں ورنہ وضوکریں۔
احر ام کی چادریں : مر دایک سفید چادر با ندھیں اور دوسری اوڑھیں اور جو تے اتار کر ہو ائی چپل پہنیں،خواتین کتا ب کے مطابق اپنے مخصو ص طریقہ احرام پر عمل کر یں۔
نفل نماز : ایک نفلی طواف کریں ورنہ اگر مکر وہ وقت نہ ہوتو مرد حرم شریف میں آکر احرام کی نیت سے دورکعت نفل سر ڈھک کر ادا کریں اور خواتین گھر میں یہ نفل پڑھیں۔
نیت اور تلبیہ : اب اپنا سر کھول کراس طرح نیت کریں: اے اللہ!میں حج کی نیت کرتا ؍کرتی ہوں ، اس کو میرے لئے آسان فر مادیجئے اور قبول فر ما لیجئے۔ آمین۔
پھر فورََاتلبیہ کہیں۔
احرام کی پا بندی : احرام کی پابندی شروع ہو گئیں،ان کی تفصیل تازہ کریں اور ان کا خاص خیال رکھیں۔
مِنٰی روانگی : طلوعِ آفتاب کے بعدمِنٰی روانہ ہوں اور راستہ بھر زیادہ سے زیادہ تلبیہ پڑھیں اور دیگر تسبیحات پڑھتے رہیں۔
مِنٰی میں : مِنٰی میں ظہر،عصر، مغرب،عشاء اور
۹؍ذی الحجہ کی فجر کی نماز ادا کریں اور رات مِنٰی میں رہیں۔
۹ ذی الحجہ حج کا دوسرا دن
عرفات روانگی : نماز فجر مِنٰی میں ادا کریں، تکبیر تشریق کہیں، لبیک کہیں اور تیاری کرکے زوال ہونے پر عرفات پہنچ جائیں۔
غسل : غسل کریں ورنہ وضو کریں اور کھانے وغیرہ سے فارغ ہو جائیں، اور کچھ دیر آرام کریں۔
وقوف عرفات : زوال ہوتے ہی وقوف عرفہ شروع کریں، اور شام تک لبیک کہنے، دعا اور توبہ و استغفار کرنے اور چوتھا کلمہ پڑھنے اور الحاح و زاری میں گزاریں اور وقوف عرفہ کھڑے ہو کر کرنا افضل ہے اور بیٹھ کر جائز ہے۔
ظہر و عصر کی نماز : ظہر کی نماز ظہر کے وقت اور عصر کی نماز عصر کے وقت اذان و تکبیر کے ساتھ باجماعت ادا کریں۔
مزدلفہ روانگی : جب عرفات میں سورج ڈوب جائے تو مغرب کی نماز پڑھے بغیر ذکر و تلبیہ پڑھتے ہوئے مزدلفہ روانہ ہو جائیں۔یاد رہے سورج ڈوبنے سے پہلے عرفات سے نکلنا جائز نہیں ورنہ دَم واجب ہو گا۔
مغرب اور عشاء کی نماز : مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر عشا ء کے وقت میں ادا کریں۔ دونوں نمازوں کے لئے صرف ایک اذان اور ایک اقامت کہی جائے، پہلے مغرب کی فرض نماز با جماعت ادرا کریں، پھر فوراً عشاء کے فرض باجماعت ادا کریں۔اس کے بعد مغرب کی دو سنت پھر عشاء کی دو سنت اور وتر پڑھیں، نفل پڑھنے کا اختیار ہے ۔
ذکر و دُعا : یہ بڑی مبارک رات ہے اس میں ذکر،تلاوت، درود شریف پڑھیں، لبیک کہیں اور خوب دعا کریں۔اور کچھ دیر آرام بھی کر لیں۔
کنکریاں : بڑے چنے کے برابر سَتر کنکریاں فی آدمی چُنیں۔
نماز فجر اور وقوف : صبح صادق ہونے پر اذان دیکر، سنت پڑھ کر فجر کی نماز باجماعت ادا کریں اور وقوف مزدلفہ کریں۔
مِنٰی واپسی : جب سورج نکلنے والا ہو تو مِنٰی روانہ ہو جائیں۔
۱۰ ذی الحجہ حج کا تیسرا دن
جَمَْرَ ۃَ الْعَقَبَہ کی رمی : مِنٰی پہنچ کر جَمَْرَ ۃَ الْعَقَبَہ پر سات کنکریاں الگ الگ ماریں۔(جان کے خطرے کے پیشِ نظرشام کو یا رات کو کنکریاں مارنا مناسب ہے)۔
تلبیہ بند : جَمَْرَ ۃَ الْعَقَبَہ کو کنکری مارتے ہی لبیک کہنا بند کر دیں اور رمی کے بعد دعا کے لئے نہ ٹھہریں، یوں ہی قیام گاہ چلے آئیں۔ اس کے بعد قربانی کریں۔
قربانی : قربانی کے تین دن مقرر ہیں۔
۱۰۔۱۱۔۱۲ ذی الحجہ۔ دن میں یا رات میں جب چاہیں قربانی کریں۔
۱۱ ذی الحجہ کو قربانی اکثر آسان ہو جاتی ہے اور قربانی خودکریں یا کسی معتمد شخص کے ذریعے کروائیں۔
حلق یا قصر : قربانی سے فارغ کو کر مرد حلق اور عورت قصر کروائیں۔
طوافِ زیارت : اب طوافِ زیارت کریں ۔اس کا وقت
۱۰ سے ۱۲ ذی الحجہ کے آفتاب غروب ہونے تک ہے۔دن میں یا رات میں جب چاہیں کریں عموماً ۱۱ ذی الحجہ کو آسانی رہتی ہے (طواف زیارت کا طریقہ وہی ہے جو عمرہ کے طواف کا ہے) اور طواف باوضو ضروری ہے۔
حج کی سعی : اس کے بعد سعی کریں(سعی کا طریقہ وہی ہے جو عمرہ کی سعی کا ہے) اور سعی باوضو سنت ہے۔
مِنٰی واپسی : سعی سے فارغ ہو کرمِنٰی واپس آ جائیں۔ اور رات مِنٰی ہی میں بسر کریں۔
۱۱ ذی الحجہ حج کا چوتھادن
جَمر ات کی رمی :
۱۱ تاریخ کو زوال کے بعد تینوں جَمرات پر سات سات کنکریاں مارنی ہیں(عموماً غروب آفتاب سے ذرا پہلے اور رات میں رمی کرنا آسان ہوتا ہے اور جان کے خطرہ کی بناء پر رات میں رمی کرنا بلاکراہت درست ہے)
دعا کریں : جَمرہ اولیٰ پرسات کنکریاں مار کر ذرا سا آگے بڑھ کر قبلہ رو ہو کر اور ہاتھ اٹھا کر حمد و ثنا کر کے جو دل چاہے دعا کریں۔کو ئی خاص دعا ضروری نہیں ہے۔
دعا کریں : اس کے بعد جَمرہ وسطیٰ پرسات کنکریاں مار یں اور قبلہ رو ہو کر اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کر کے خوب دعا کریں۔یہاں بھی کو ئی خاص دعا ضروری نہیں ہے۔
دعا نہ کریں : اس کے بعد جَمَْرَ ۃَ الْعَقَبَہ ہ پر سات کنکریاں ماریں اور رمی کے بعد بغیر دعا کئے اپنی جگہ واپس آجائیں۔
ذکر و عبادت : قیام گا ہ میں آکر تلاوت، ذکر اللہ ،توبہ و استغفار اور دعا میں مشغول رہیں اور گناہوں سے دور رہیں۔
۱۲ ذی الحجہ حج کا پانچواں دن
جَمر ات کی رمی : تینوں جَمرات کو زوال کے بعد سات سات کنکریاں ماریں،(غروب آفتاب سے ذرا پہلے رمی کرنا اکثر آسان ہوتا ہے اور جان کے خطرہ کے لحاظ سے رات میں رمی کرنا مکروہ بھی نہیں ہے)
دعا کریں : جَمرہ اولیٰ پرسات کنکریاں مار کر ذرا سا آگے بڑھ کر قبلہ رو ہو کر اور ہاتھ اٹھا کر حمد و ثنا کر کے جو دل چاہے دعا کریں۔
دعا کریں : اس کے بعد جَمرہ وسطیٰ پرسات کنکریاں مار یں اور قبلہ رو ہو کر اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کر کے خوب دعا کریں۔یہاں بھی کو ئی خاص دعا ضروری نہیں ہے۔
دعا نہ کریں : اس کے بعد جَمَْرَ ۃَ الْعَقَبَہ پر سات کنکریاں ماریں اور رمی کے بعد بغیر دعا کئے اپنی جگہ واپس آجائیں۔
اختیار : آج کی رمی کے بعد اختیار ہے مِنٰی میں مزید قیام کریں یا مکہ مکرمہ آجائیں۔
طوافِ وداع : حج کے بعد جب مکہ مکرمہ سے وطن واپسی کا ارادہ ہو تو طوافِ وداع واجب ہے (اس طواف کا طریقہ عام نفل طواف کی طرح ہے)۔
۱۳ ذی الحجہ چھٹادن
آج رمی کا اختیار ہے۔
۱۲ تاریخ کو مکہ مکرمہ بھی جا سکتے ہیں۔
اگر
۱۳ تاریخ کی صبح صادق تک ٹھہر گئے تو رمی واجب ہو جائے گی جو صبح صادق کے بعد سے کر سکتے ہیں۔
 ۔

سوالایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’جس کی اپنی عمر بھر میں نمازیں فوت ہوگئی ہوں اور وہ اسے شمار نہ کرسکتا ہو تو اسے چاہیے کہ رمضان کے آخری جمعہ میں کھڑا ہو اور چار رکعات نماز ایک تشہد کے ساتھ ادا کرے، جس کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اورسورۃ القدر پندرہ مرتبہ پڑھے، اسی طرح سے سورۃ الکوثر بھی۔ اور نیت کے وقت یہ کہے کہ: میں نیت کرتا ہوں چار رکعات ان تمام نمازوں کے کفارے کے طور پر جو مجھ سے فوت ہوئی ہيں۔
سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یہ چار سو سال کا کفارہ ہے۔ یہاں تک کہ علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: یہ ہزار سال کا کفارہ ہیں۔ پوچھا گیا کہ جو زائد نمازیں ہيں پھر وہ کس کے کھاتے میں جائیں گی؟ فرمایا: وہ اس کے والدین، بیوی، اولاد، عزیز واقارب اور شہر کے لوگوں کے لیے ہوجائیں گی۔ پھر جب نماز سے فارغ ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سو مرتبہ کسی بھی طرح کا درود بھیجے۔ پھر یہ دعاء تین مرتبہ پڑھے:
’’اللهم يا من لا تنفعك طاعتي، ولا تضرك معصيتي، تقبل مني ما لا ينفعك، واغفر لي ما لا يضرك، يا من إذا وعد وفى، وإذا توعد تجاوز وعفا، اغفر لعبد ظلم نفسه، وأسألك اللهم إني أعوذ بك من بطر الغنى وجهد الفقر، إلهي خلقتني ولم أكُ شيئًا، ورزقتني ولم أكُ شيئًا، وارتكبت المعاصي فإني مقر لك بذنوبي، إن عفوت عني فلا ينقص من ملكك شيء، وإن عذبتني فلا يزيد في سلطانك شيء، إلهي أنت تجد من تعذبه غيري، وأنا لا أجد من يرحمني غيرك، اغفر لي ما بيني وبينك، واغفر لي ما بيني وبين الناس يا أرحم الراحمين، ويا رجاء السائلين، ويا أمان الخائفين، ارحمني برحمتك الواسعة، أنت أرحم الراحمين يا رب العالمين، اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات، والمسلمين والمسلمات برحمتك الواسعة، أنت أرحم الراحمين يا رب العالمين، اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات، والمسلمين والمسلمات، وتابع بيننا وبينهم بالخيرات، رب اغفر وارحم وأنت خير الراحمين.. وصل الله على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين‘‘۔

معلوم کرنا ہے کہ اس حدیث کی کیا حقیقت ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب :

یہ جھوٹی اور من گھڑت حدیث ہے، اس جیسی کوئی حدیث احادیث کی معتبر کتب میں موجود ہی نہيں ہے۔ جس کی نماز فوت ہوجائے تو اس پر واجب ہے کہ جیسے ہی اسے یاد آئے وہ اس کی قضاء ادا کرنے میں جلدی کرے ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’مَنْ نَامَ عَن صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا فَلْيُصَلِّهَا  إِذَا ذَكَرَهَا، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ ‘‘( صحيح البخاري، مواقيت الصلاة 597، صحيح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة 684 )
ترجمہ (جو نماز سے سویا رہ گیا یا بھول گیا تو جب اسے یاد آئے تو نماز پڑھ لے، اس کا اس کے سوا اور کوئی کفارہ نہیں)۔

ساتھ ہی اس نماز کے بعد جو دعاء ذکر ہوئی ہے اس میں بھی بعض غیر لائق عبارتیں ہيں جیسے:
’’إلهي أنت تجدُ مَن تعذّبه غيري‘‘ ( الہی! تجھے تو میرے علاوہ دوسرے مل جائیں گے عذاب دینے کے لیے )۔

فوت شدہ نمازوں کے کفارہ کے طور پر یہ جو طریقہ ( قضائے عمری) ایجاد کرلیا گیا ہے یہ بد ترین بدعت ہے اس بارے میں جو روایت ہے وہ موضوع ( گھڑی ہوئی) ہے یہ عمل سخت ممنوع ہے ، اور اس کی دین اسلام میں کوئی اصل وبنیاد نہيں اور نہ ہی اس کے ذریعے ان نمازوں کا کفارہ ادا ہوتا ہے جو آپ نے چھوڑی ہيں۔

قضائے عمری کے نام سے ایجاد کردہ نماز کے بدعتی افراد رمضان المبارک میں اس مخصوص نماز کے جھوٹے میسجز پھیلاتے ہیں، جس کی وجہ سے امت کا ایک بہت بڑا طبقہ ان کے فریب کا شکار ہو جاتا ہے، عام سادہ لوح مسلمان بھی اسے صحیح سمجھ کر اپنی زندگی بھر کی نمازیں ادا نہیں کرتے، اور اس نماز کو پڑھ لینے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ اب ہمیں قضاء شدہ نمازوں کو ادا کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔جبکہ اہل السنت والجماعت کا نظریہ بالکل الگ ہے ، وہ یہ ہے کہ قضاء شدہ نمازیں نہ تو محض توبہ سے ذمہ سے ساقط ہوتی ہیں اور نہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو چار رکعات کی مخصوص نماز کو ادا کرلینے سے ساری نمازیں ادا ہوتی ہیں۔ بلکہ قضاء شدہ نمازوں کو ادا کرنا ضروری ہے۔

دار العلوم دیوبند کا ایک فتوی بخصوص اس پیغام کے
فتوی(م): 47=47-1/1433
مذکورہ پیغام کی اشاعت صحیح نہیں ہے، روایت موضوع ہے، صحیح یہ ہے کہ جتنی نمازیں قضا ہوئی ہیں اگر ان کی حتمی تعداد معلوم نہیں ہے تو اندازہ کرے اور جس تعداد پر دل مطمئن ہوجائے ان سب کی قضا کرے۔

جامعہ فاروقیہ کراچی کا ایک فتوی قضائے عمری کی نماز کے متعلق :
واضح رہے کہ مذکورہ بالا قضائے عمری کا ثبوت قرآن وحدیث اور کتبِ معتبرہ میں نہیں، قضاء نمازوں کے بارے میں شریعت کا حکم تو یہ ہے کہ قضاء نماز پہلی فرصت میں ادا کرلی جائے، چاہے نماز کا وقت ہو یا نہیں(سوائے اوقاتِ مکروہ کے) ۔اسی طرح نوافل کے بجائے قضاء پڑھ لیا کرے،اور اگر کسی کا اس حالت میں انتقال ہو جائے کہ قضاء نمازیں اس کے ذمے باقی ہوں تو ہر نماز کے بدلے میں صدقہٴ فطر کی رقم کے برابر فدیہ ادا کیا جائے۔
البتہ سوال میں جو طریقہ مذکور ہے وہ غلط اور بدعت ہے اور لوگوں کو نماز کے ترک کرنے پر جریء بنانا ہے۔ اسی طرح شریعت مطہرہ پر بہتان اوراس میں دخل اندازی کے مترادف ہے،لہٰذا ایسی مہمل باتوں پر عمل اور یقین نہ کیا جائے۔اھ

امام ابن نجیم حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فالأصلُ فیہ أن کل صلوٰۃ فاتت عن الوقت بعد ثبوتِ وجوبہا فیہ فإنہ یلزم قضاؤھا۔ سواء ترکھا عمدا أو سھوا أو بسبب نومٍ ، وسواء کانت الفوائتُ قلیلۃ أو کثیرۃ۔ (البحر الرائق ج 2 ص 141)۔
ترجمہ :
اصول یہ ہے کہ ہر وہ نماز جو کسی وقت میں واجب ہونے کے بعد رہ گئی ہو ، اس کی قضاء لازم ہے خواہ انسان نے وہ نماز جان بوجھ کر چھوڑی ہو یا بھول کر ، یا نیند کی وجہ سے نماز رہ گئی ہو ۔ چھوٹ جانے والی نمازیں زیادہ ہوں یا کم ہوں ۔بہر حال قضا لازم ہے ۔

علامہ علی قاری علیہ رحمۃ الباری "موضوعات کبیر" میں کہتے ہیں:
حدیث ''من قضی صلوٰۃ من الفرائض فی اخر جمعۃ من رمضان کان ذلک جابرا لکلّ صلوٰۃ فاتتهُ فی عمرہ إلی سبعین سنۃ'' باطل قطعا لأنہ مناقض للإجماع علی أن شیئا من العبادات لاتقومُ مقامَ فائتۃ سنوات ،  ثم لا عبرةَ بنقل صاحب (النهاية) ولا بقية شُراح (الهداية) لأنهم ليسوا من المحدّثين ولا أسندوا الحديثَ إلى أحد من المخرّجين . انتهى (الاسرار الموضوعۃ فی الاخبار الموضوعہ حدیث 953 ص 242)
ترجمہ :
 حدیث '' جس نے رمضان کے آخری جمعہ میں ایک فرض نماز ادا کرلی اس سے اس کی ستر سال کی فوت شدہ نمازوں کا ازالہ ہوجاتا ہے '' یقینی طور پر باطل ہے کیونکہ اس اجماع کے مخالف ہے کہ عبادات میں سے کوئی شئے سابقہ سالوں کی فوت شدہ عبادات کے قائم مقام نہیں ہوسکتی ۔اور فرمایا :پھر "نہایہ" سمیت "ھدایہ" کے باقی شراح کی نقل کردہ عبارت غیر معتبر ہے،اس لیے کہ وہ محدثین نہیں تھے اور نہ ہی حدیث کےمخرجین میں سے کسی کی طرف سے سند بیان کی ہے۔

امام شوكانی (الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة ص 54میں لکھتے ہیں :
هذا موضوع بلا شك ولم أجده في شيء من الكتب التي جمع مُصنفوها فيها الأحاديث الموضوعة ، ولكن اشتهر عند جماعة من المتفقّهة بمدينة صَنعاء في عصرنا هذا ، وصار كثيرٌ منهم يفعلون ذلك، ولا أدري مَن وضع لهم ، فقبّح الله الكذابين ،انتهى.
ترجمہ:
یہ روایت بلا شک من گھڑت ہے ، مجھے احادیث موضوعہ پر لکھی گئی کتابوں میں سے کسی کتاب میں  نہیں ملی ، البتہ ہمارے زمانہ میں شہر صنعاء کے بعض  فقہاء کے درمیان مشہور ہے ، بہت سے لوگ اس پر عمل کرتے ہیں ، معلوم نہیں یہ روایت کس نے گھڑی ہے ، اللہ تعالی جھوٹوں کا ناس کرے ۔

امام ابن حجر شافعی کی "تحفہ شرح منہاج للامام النووی" میں پھر علامہ زرقانی  مالکی "شرح مواہب امام قسطلانی" رحمہم ﷲ تعالٰی میں فرماتے ہیں:
وأقبح من ذلک ما اعتِید فی بعض البلاد مِن صلوٰۃ الخمس فی ھذہ الجمعۃ عَقِب صلٰوتھا زاعمین أنھا تکفّر صلٰوۃ العام أوالعمر المتروکۃ ، و ذلک حرام لوجوہٍ لا تخفی ۔ ( شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ 7/110) ۔
ترجمہ :
اس سے بھی بدتر وہ طریقہ ہے جو بعض شہروں میں ایجاد کر لیا گیا ہے کہ جمعہ کے بعد پانچ نمازیں اس گمان سے ادا کرلی جائیں کہ اس سے سال یا سابقہ تمام عمر کی نمازوں کا کفارہ ہے اور یہ عمل ایسی وجوہ کی بنا پر حرام ہے جو نہایت ہی واضح ہیں۔

اورامام لکھنوی نے اس روایت کی تحقیق میں مستقل ایک رسالہ بنام (ردع الأخوان عن مُحدَثات آخر جمعة من رمضان) مرتب کیا ہے ، اور اس میں دلائل نقلیہ وعقلیہ سے ثابت کیا ہے کہ یہ نماز باطل ہے ۔

اس کےبعدان فقہاء کےقول کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاسکتا ہےجو کہتے ہیں کہ جوشخص نماز فوت نہ ہونے کے باوجود قضاء عمری کرتا ہے تو مکروہ نہیں کیونکہ اس نے احتیاط اختیار کی ہے ۔

بعض لوگ قضائے عمری کو شب ِقدر یا آخری جمعہ رمضان میں جماعت سے پڑھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ عمر بھر کی قضائیں اس ایک نماز سے اداہوگئیں۔ یہ سب محض باطل ہے۔

Latest

tadreesulislam. Powered by Blogger.

nwees

News & Updates : Congratulations To Those Students Who Have Passed Their Exams And Best Wish For Those Who Have Relegated Carry On Your efforts.*** Students Are Requested To Prepare Themselves For Next Exams.***Students Are Requested To Act Upon What They Have Learnt In TADREES-UL-ISLAM institute And Try To Convince Your Friends And Rerlatives To Join TADREES-UL-ISLAM institute For Learning.***Admissions Are Open For New Commers. *** By Acting Upon Sayings Of Allah Almighty In Quran Peace Can Be Established In Whole World.

videos,

Follow on facebook